05:02 , 22 جون 2026
Watch Live

ٹک ٹاک پر 60 فیصد ویڈیوز اے آئی سے تیار، رپورٹ میں انکشاف

ٹک ٹاک پر 60 فیصد ویڈیوز اے آئی سے تیار، رپورٹ میں انکشاف

ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر صارفین کی جانب سے دیکھی جانے والی تقریباً 60 فیصد ویڈیوز آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔

امریکی کمپنی کیپ وِنگ کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح یوٹیوب کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے، جو سوشل میڈیا پر اے آئی مواد کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کا الگورتھم نسبتاً کم معیاری یا مصنوعی مواد کو بھی زیادہ رسائی فراہم کرتا ہے، جس کے باعث اے آئی سے تیار شدہ ویڈیوز تیزی سے صارفین تک پہنچتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان کم عمر صارفین، خصوصاً بچوں کے لیے زیادہ تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کی کڈز کیٹیگری میں اے آئی مواد سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

خاص طور پر “کارٹون کڈز” ہیش ٹیگ کے تحت موجود مواد تقریباً مکمل طور پر اے آئی ویڈیوز پر مشتمل ہے، جہاں 100 میں سے صرف 3 ویڈیوز انسانوں کی تیار کردہ ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی صارف اے آئی ویڈیوز میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ٹک ٹاک کا الگورتھم اسی نوعیت کا مزید مواد اس کی فیڈ میں دکھانا شروع کر دیتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اے آئی مواد دیکھنا بچوں کی ذہنی نشوونما اور تخلیقی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ یاد رہے کہ TikTok نے نومبر 2025 میں ایسے کنٹرولز متعارف کرائے تھے جن کے ذریعے صارفین اپنی فیڈ میں اے آئی مواد کی مقدار کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION